Friday, January 7, 2022

Beti Episode No.1 | Urdu Kahani

Beti

1
قسط

"  بیٹی "

انتباہ !۔
اس ناول کے تمام کردار فرضی ہیں اور ان کے نام بھی فرضی ہیں ان کا نہ تو مصنف کی زندگی سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی کسی اور کی۔۔اس کو اپنی زندگی سے وابستہ کرنا اور سمجھنا کہ آپ کو بے عزت کرنے کے لیے لکھا گیا ہے سوچنا بالکل غلط ہے۔مصنف کا اس طرح کا کوئی مقصد نہیں ۔ہاں البتہ اس ناول کا اس معاشرے سے بہت گہرا تعلق ہے۔اس معاشرے کا درد اس میں سمایا ہوا ہے۔۔اور اس کا مقصد لوگوں کے سامنے اس معاشرے کا آئینہ پیش کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں ۔کرداروں کی زندگی ہم میں سے کسی کی بھی زندگی ہوسکتی ہے مگر اس پر مصنف کو برا بھلا کہنا غلط ہے۔ مزید برآں اس میں ایسے واقعات کا تذ کرہ بھی جو ہم کرنا غلط سمجھتے ہیں مگر مصنف نے تہذیب کے دائرہ میں رہ کر ان کو بھی بہتر انداز سے بیان کیا ہے۔اللہ آپ کا ہامی ہو
 قسط 1
ناول بیٹی ۔
اک شام سلونی ۔۔
سرجی گورنمنٹ کالج کے ہاسٹل کی وارڈن آئی ہے ۔ کانسٹیبل اسلم نے حوالدار کو  آکر بتایا۔
 ہاں بھیجو اسے اندر۔  بھٹا شاہ نے  کہا ۔
سلام صاحب جی ۔  حمیدہ نے اندر آ کر بھٹہ کو   سلام کیا اور ایک کونے میں جا کر کھڑی ہو گئی ۔  
ہاں بئی حمیدہ  اتنے عرصے بعد آئی ہو ۔ خالی ہاتھ آئی ہو یا  کوئی رپورٹ  بھی  لائی ہو بھٹا شاہ نے اس سے پوچھا ۔
سرجی  . ۔ رپورٹ کوئی خاص اچھی نہیں ھے ۔  اس مرتبہ  صرف  دس لڑکیاں ہاسٹل میں داخل ہوئی ہیں ۔
دس لڑکیاں  ۔۔۔؟؟؟؟   صرف دس لڑکیاں ۔۔۔ !!!!  کیا اتنے بڑے ہوسٹل میں صرف دس لڑکیاں  آئی ہیں ۔۔ ؟؟؟ بھٹا حیرت اور غصے کے ملے جلے اثرات سے   چیخ اٹھا ۔ کہیں کوئی مخبری تو نہیں کر رہا ۔۔۔۔۔۔  حمیدہ خوفزدہ ہوکر ایک قدم پیچھے ہٹ گئی   جیسے کم لڑکیاں آنے میں اسی کا قصور ہو۔۔
نہ نہ سر جی ۔۔میں پوری ایمانداری سے کام کڑ رہی ہوں ۔۔
اور ڈگری کالج میں کیا تعداد ھے نئی لڑکیوں کی ۔۔بھٹہ نے پوچھا ۔
سر جی اسکی رپورٹ کل تک مکمل کر دونگی ۔ لیکن وہاں کی بھی رپورٹ کچھ اچھی نہیں ھے ۔ والدین کوئی چھوٹا موٹا کمرہ لیکر بچیوں کے ساتھ رہتے ہیں ۔
ہممم ۔۔۔یہ بتاؤ  اس  کالج میں ہمارے ٹائپ کی کتنی لڑکیاں ہیں  .۔۔؟؟   بھٹا نے   انتہائی مکروہ لہجے میں مسکرا کر اگلا سوال پوچھا  ۔ حمید بھٹا شاہ کی مسکراہٹ سے کچھ نارمل ہوئی اور بولی ۔۔۔
سرجی میں ویڈیو بنا لائی ہوں  ۔ آپ خود چیک کر لیں .
کسی کو شک تو نہیں ہوا ناں ۔۔۔؟؟_بھٹہ نے بھنوئیں اٹھاتے ہوئے کہا ۔۔۔ تبھی آے روز ہوسٹل میں لڑکیوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے ۔
نہیں سر جی ۔سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھیں ۔۔۔۔
اگر کوئی گڑ بڑ کی تو یاد رکھنا ۔۔۔۔۔۔
اچھا چلو  وڈیو دیکھ لیتے ہیں ۔ویسے بھی بڑے دن گزر گئے کوئی مال ہاتھ نہیں لگا ۔  ۔۔۔ بھٹہ نے حمیدہ کا ہاتھ پکڑا اور کھینچ کر اپنے پاس بیٹھاتے ہوۓ کہا ۔۔
ہاں چلو آؤ میرے پاس بیٹھو  اور ساتھ ساتھ بتاتی جاؤ کونسی لڑکی کس شہر کی ہے اور ماں باپ کیا کرتے ہیں ۔۔۔ ؟؟؟_    
حمیدہ نے وڈیو لگائی اور   تفصیل سے بتانا شروع کر دیا ۔ سرجی   . یہ  لڑکی پنڈی بھٹیاں سے ہے باپ زمیندار ہے۔  بڑے گھرانے سے ہے ہفتے میں دو مرتبہ اس کا باپ چکر بھی لگاتا ہے۔ کافی اچھے گھرانے سے ھے ۔۔
 اور یہ لڑکی لودھراں سے ہے اس کا باپ آرمی میں ھے ۔ پرنسپل کا دوست ہے ۔  بڑی یاری ہے دونوں میں۔
 یہ لمبے بالوں والی  لڑکی  بڑی مست ہے ایک جگہ ٹک کر نہیں بیٹھتی اس کا باپ مرچکا ہے دو بڑے بھائی ہیں۔  لاہور کی رہنے والی ھے ۔
حمیدہ ایک ایک کر کے تمام لڑکیوں کی ہسٹری بتاتی رہی ۔۔۔
حوالدار بھٹہ مکروہ عزائم لئے گندی نگاہ سے لڑکیوں کو مسکرا مسکرا کر  دیکھتا رہا۔۔۔
حمیدہ  ویڈیو  بند کرنے والی تھی کہ بھٹا ٹھٹھک گیا اور بولا روکو۔۔۔روکو ۔۔ وڈیو کو روک کر پوچھا ۔۔۔ یہ لڑکی جو دروازے سے اندر داخل ہو رہی ہے یہ کون ہے۔۔۔۔؟؟؟؟
  سر جی۔۔۔  یہ لڑکی اس کی سہیلی ہے جس کا باپ آرمی میں ہے  ۔ اور یہ کبھی کبھی ہوسٹل آتی ہے  ۔ بھٹہ شاہ  نے مووی  پیچھے  کی  اور دیکھنے لگا کہ ،  نہایت مہذب انداز سے ایک لڑکی دروازے سے اندر داخل ہوتی ہے ۔  اس کے سر پر حجاب چہرے پر  فل نقاب تھا ۔  جسے وہ لڑکیوں کے کمرے میں آنے کی وجہ سے اتار رہی تھی  ۔ ۔۔بھٹہ کی شیطانی آنکھوں میں عجیب سی چمک آ گئی ۔۔۔ اسکی معصومیت  دیکھ کر   مچل اٹھا اور بولا   .  بس بس بس یہی  لڑکی چاہیے۔ بھٹا  نے انتہائی مکروہ  لہجے میں کہا ۔ بس  یہ مل گئی تو ٹھنڈ پڑ جائے گی باقی لڑکیاں بعد میں بلاتا رہوں گا ۔    .        
  حمیدہ اس مشن پر ڈٹ جاؤ ایک ہفتے کے اندر اندر  لڑکی لادو۔۔ میں تمہیں مالا مال کڑ دونگا ۔۔۔
 حمیدہ نے بھٹا شاہ کا خشگوار موڈ دیکھتے ہوئے ہمت کی  اور کہا  . ۔  سر جی یہ کام بڑا مشکل ہے بڑا وقت لگے گا بڑی محنت درکار ہوگی ۔
فہمیدہ کی نیت کو بھانپتے ہوئے زلالت  بھرے الفاظ میں بولا خوش کر دوں گا تمہیں بھی  .   بس اسے ایک دفعہ ملا تو دو مجھے ٹھنڈ تو پڑھنے دو ۔ یہ لو فلحال  دو ہزار روپے لو اور موج کرو ۔ آج برے عرصے بعد کوئی کام کی  لڑکی دکھائی تم نے ۔ اور یاد رکھنا تمہارے پاس صرف ایک ہفتہ ھے ۔   نہیں تو ہفتے بعد    ساری رات تمہیں ہی  نچواتا رہوں گا۔  
حمیدہ کھسیانی ہو گئی ۔۔۔
سر جی اسے لاؤں کیسے ۔ یہ تو کبھی کبھی آتی ہے ۔
یہ تمہارا کام ھے حمیدہ ۔ باقی کوئی پاؤڈر چاہیے تو بتا دینا ۔ اور نئی لڑکیوں کو بھی ٹھوڑی ٹھوڑی ڈوز دینا شروع کر دو ۔ جب پوری طرح لت پڑ جائے گی تو  تبھی قابو کریں گے ناں ۔۔بھٹہ نے اپنے مخصوص شیطانی انداز سے  مسکرا کر کہا۔  
حمیدہ کے  واپس جانے کے بعد بھٹا  بار بار ویڈیو کو پیچھے کرتا اور دیکھتا لڑکی کے نقاب اتارنے والے کلپ کو زوم کرتا اور شیطانی ہنسی ہنسا اور بولا ۔  ۔لڑکی جتنی معصوم اور پاکیزہ ہو بھٹہ اتنا ہی خوش ہوتا ھے ۔۔
کانسٹیبل اسلم  ،  بھٹا شاہ کے  کالے کرتوت دیکھ کر دل ہی دل میں کڑھتا رہتا کہ کاش وہ اتنا طاقت ور ہوتا کہ بھٹا کو اس عہدے سے ہٹا سکتا یا کم از کم معصوم لڑکیوں کو اسکے چنگل سے بچا سکتا ۔ حمیدہ  اسکی حیوانیت کو مکمل تقویت پہنچانے میں مددگار ثابت ہوتی ۔  
اب مجھے  کچھ نا کچھ ضرور سوچنا چاہئے۔ اسلم  نے دل ہی دل میں ٹھان لی اور سوچ  لیا  ۔ سب سے پہلے گورنمنٹ کالج کے پرنسپل سے ملکر حمیدہ کو بے نقاب کیا جائے ۔ مگر بغیر ثبوت کے کوئی قدم اٹھانا انتہائی خطرناک ہو گا ۔ اسے وہ ویڈیو حاصل کرنا ہوگی جو بھٹا کیلئے بنا کر لائی ۔  بھٹا سے ٹکر لینا کوئی آسان کام نہیں ۔ یہی سوچ کر فیصلہ کیا کہ بھٹا کی حفیہ ویڈیو بنائے گا ۔چاہے اسکی جان ہی کیوں نہ چلی جائے ۔ ۔۔۔
حمیدہ ایک لالچی عورت تھی جسے بھٹہ نے خاص طور پر انہی کاموں کیلئے ہوسٹل کی بھولی بھالی لڑکیوں کو پھانسنے کیلئے رکھا تھا ۔ کئی معصوم لڑکیاں بھٹہ کے چنگل میں پھنس چکی تھیں ۔لیکن خاموش اپنی عزت بچانے کیلئے ہوسٹل سے بھاگ گئی ۔ کچھ نے تعلیم چھوڑ دی تاکہ دوبارہ بھٹہ کے ہاتھوں ذلیل نا ہوں ۔ کچھ معصوم لڑکیوں نے خود کشی کرلی اور کچھ وڈیو لیک ہو جانے کے ڈر سے ابھی تک بھٹہ کے ظلم کا نشانہ بنی ہوئی ہیں ۔
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔°°°°°°۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔°°°°۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
             سکینہ میں چاہتا ہوں  تم اب دوبئی   . شفٹ ہو جاؤ ۔  تمہارا خواب بھی پورا ہو جائے  گا  اور بچوں کی زندگی بھی بن جائے گی ۔ اسلم نے بیوی  کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ۔
لیکن آپ ۔۔۔۔ کیا آپ ساتھ چلیں گے ۔۔  ۔؟؟ سکینہ نے پوچھا ۔۔
نہیں سکینہ بیگم ۔۔مجھے یہاں اپنا فرض نبھانا ھے ۔ لیکن میں برابر رابطے میں رہوں گا ۔
آپ کے بغیر نا تو بچے راضی ہوں گے اور نا ہی میں جانے والی ہوں ۔
ضد مت کرنا سکینہ ۔۔اب تمہارا یہاں رہنا مجھے خطرے میں ڈال سکتا ہے ۔ کیوں کہ اب مجھے اپنے محکمے کے ساتھ ساتھ معصوم بچوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے ۔ ناسور کو جڑ سے اکھاڑنا ھے ۔کالی بھیڑوں کو بے نقاب کرنا ہے اور یہ اسی صورت ممکن ہے کہ سب سے پہلے میں اپنی فیملی کو کسی محفوظ مقام پر شفٹ کروں ۔ تمہارے تینوں بھائی وہیں ہیں اور وہ تم سبکی حفاظت کر سکیں گے ۔
لیکن یہ کام آپ ہی کیوں کریں گے ۔ ؟؟ دنیا اگے  سے اگے پہنچ گئی اور آپ ابھی تک ایک کا نسٹیبل ہی ہیں ۔ ایمانداری آپ کو کھا رہی ہے  ۔ آپ کو ساتھ چلنا ہو گا ۔ سکینہ نے برہمی کا اظہار کیا ۔  تم نہیں سمجھو گی ۔ بلکہ کوئی بھی نہیں سمجھ پائے گا ۔  میری زندگی کا اب کوئی بھروسہ نہیں ۔ کیوں کہ  ، یہ زندگی اب امانت ھے ۔  میرے محکمے کی ، میرے ملک اور میرے ملک کی  بچیوں کی ۔
میری جان بھی جا سکتی ہے ۔ مجھے کوئی پرواہ بھی نہیں ، لیکن  اگر تم لوگ محفوظ مقام پر پہنچ جاؤ ۔۔
بات اگر بچیوں کی عزت کی ہے تو آپ کے مشن میں ، میں آپ کے ساتھ کھڑی رہوں گی ۔
اسلم نے بھٹہ کے تمام کرتوت بیگم کو بتائے اور پاکستان سے چلے جانے پر  مجبور کیا ۔اور بتایا ۔۔
 بد قسمتی ، جس شخص سے ٹکر لینے لگا ہوں بڑے اثر رسو خ  والا ہے ۔
پھر تو میں ہرگز نہیں جانے والی ۔ ہاں بچوں کو ضرور بھیج دیں گے ۔ لیکن اس آگ میں آپ کو اکیلا نہیں کودنے دونگی ۔۔میں کسی نا کسی طرح لڑکیوں کے ہوسٹل تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش بھی کر لونگی ۔۔حد ممکن آپ کی مدد کروں گی ۔۔
کانسٹیبل اسلم نے مسکرا کر سکینہ کو سلیوٹ کیا اور بچوں کو جلد از جلد دوبئی بھجوانے کی تیاری شروع کر دی ۔۔۔۔

No comments:

Post a Comment

Beti Episode No.1 | Urdu Kahani

1 قسط "  بیٹی " انتباہ !۔ اس ناول کے تمام کردار فرضی ہیں اور ان کے نام بھی فرضی ہیں ان کا نہ تو مصنف کی زندگی سے کوئی تعلق ہے اور ...