Friday, January 7, 2022

Beti Episode No.1 | Urdu Kahani

Beti

1
قسط

"  بیٹی "

انتباہ !۔
اس ناول کے تمام کردار فرضی ہیں اور ان کے نام بھی فرضی ہیں ان کا نہ تو مصنف کی زندگی سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی کسی اور کی۔۔اس کو اپنی زندگی سے وابستہ کرنا اور سمجھنا کہ آپ کو بے عزت کرنے کے لیے لکھا گیا ہے سوچنا بالکل غلط ہے۔مصنف کا اس طرح کا کوئی مقصد نہیں ۔ہاں البتہ اس ناول کا اس معاشرے سے بہت گہرا تعلق ہے۔اس معاشرے کا درد اس میں سمایا ہوا ہے۔۔اور اس کا مقصد لوگوں کے سامنے اس معاشرے کا آئینہ پیش کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں ۔کرداروں کی زندگی ہم میں سے کسی کی بھی زندگی ہوسکتی ہے مگر اس پر مصنف کو برا بھلا کہنا غلط ہے۔ مزید برآں اس میں ایسے واقعات کا تذ کرہ بھی جو ہم کرنا غلط سمجھتے ہیں مگر مصنف نے تہذیب کے دائرہ میں رہ کر ان کو بھی بہتر انداز سے بیان کیا ہے۔اللہ آپ کا ہامی ہو
 قسط 1
ناول بیٹی ۔
اک شام سلونی ۔۔
سرجی گورنمنٹ کالج کے ہاسٹل کی وارڈن آئی ہے ۔ کانسٹیبل اسلم نے حوالدار کو  آکر بتایا۔
 ہاں بھیجو اسے اندر۔  بھٹا شاہ نے  کہا ۔
سلام صاحب جی ۔  حمیدہ نے اندر آ کر بھٹہ کو   سلام کیا اور ایک کونے میں جا کر کھڑی ہو گئی ۔  
ہاں بئی حمیدہ  اتنے عرصے بعد آئی ہو ۔ خالی ہاتھ آئی ہو یا  کوئی رپورٹ  بھی  لائی ہو بھٹا شاہ نے اس سے پوچھا ۔
سرجی  . ۔ رپورٹ کوئی خاص اچھی نہیں ھے ۔  اس مرتبہ  صرف  دس لڑکیاں ہاسٹل میں داخل ہوئی ہیں ۔
دس لڑکیاں  ۔۔۔؟؟؟؟   صرف دس لڑکیاں ۔۔۔ !!!!  کیا اتنے بڑے ہوسٹل میں صرف دس لڑکیاں  آئی ہیں ۔۔ ؟؟؟ بھٹا حیرت اور غصے کے ملے جلے اثرات سے   چیخ اٹھا ۔ کہیں کوئی مخبری تو نہیں کر رہا ۔۔۔۔۔۔  حمیدہ خوفزدہ ہوکر ایک قدم پیچھے ہٹ گئی   جیسے کم لڑکیاں آنے میں اسی کا قصور ہو۔۔
نہ نہ سر جی ۔۔میں پوری ایمانداری سے کام کڑ رہی ہوں ۔۔
اور ڈگری کالج میں کیا تعداد ھے نئی لڑکیوں کی ۔۔بھٹہ نے پوچھا ۔
سر جی اسکی رپورٹ کل تک مکمل کر دونگی ۔ لیکن وہاں کی بھی رپورٹ کچھ اچھی نہیں ھے ۔ والدین کوئی چھوٹا موٹا کمرہ لیکر بچیوں کے ساتھ رہتے ہیں ۔
ہممم ۔۔۔یہ بتاؤ  اس  کالج میں ہمارے ٹائپ کی کتنی لڑکیاں ہیں  .۔۔؟؟   بھٹا نے   انتہائی مکروہ لہجے میں مسکرا کر اگلا سوال پوچھا  ۔ حمید بھٹا شاہ کی مسکراہٹ سے کچھ نارمل ہوئی اور بولی ۔۔۔
سرجی میں ویڈیو بنا لائی ہوں  ۔ آپ خود چیک کر لیں .
کسی کو شک تو نہیں ہوا ناں ۔۔۔؟؟_بھٹہ نے بھنوئیں اٹھاتے ہوئے کہا ۔۔۔ تبھی آے روز ہوسٹل میں لڑکیوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے ۔
نہیں سر جی ۔سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھیں ۔۔۔۔
اگر کوئی گڑ بڑ کی تو یاد رکھنا ۔۔۔۔۔۔
اچھا چلو  وڈیو دیکھ لیتے ہیں ۔ویسے بھی بڑے دن گزر گئے کوئی مال ہاتھ نہیں لگا ۔  ۔۔۔ بھٹہ نے حمیدہ کا ہاتھ پکڑا اور کھینچ کر اپنے پاس بیٹھاتے ہوۓ کہا ۔۔
ہاں چلو آؤ میرے پاس بیٹھو  اور ساتھ ساتھ بتاتی جاؤ کونسی لڑکی کس شہر کی ہے اور ماں باپ کیا کرتے ہیں ۔۔۔ ؟؟؟_    
حمیدہ نے وڈیو لگائی اور   تفصیل سے بتانا شروع کر دیا ۔ سرجی   . یہ  لڑکی پنڈی بھٹیاں سے ہے باپ زمیندار ہے۔  بڑے گھرانے سے ہے ہفتے میں دو مرتبہ اس کا باپ چکر بھی لگاتا ہے۔ کافی اچھے گھرانے سے ھے ۔۔
 اور یہ لڑکی لودھراں سے ہے اس کا باپ آرمی میں ھے ۔ پرنسپل کا دوست ہے ۔  بڑی یاری ہے دونوں میں۔
 یہ لمبے بالوں والی  لڑکی  بڑی مست ہے ایک جگہ ٹک کر نہیں بیٹھتی اس کا باپ مرچکا ہے دو بڑے بھائی ہیں۔  لاہور کی رہنے والی ھے ۔
حمیدہ ایک ایک کر کے تمام لڑکیوں کی ہسٹری بتاتی رہی ۔۔۔
حوالدار بھٹہ مکروہ عزائم لئے گندی نگاہ سے لڑکیوں کو مسکرا مسکرا کر  دیکھتا رہا۔۔۔
حمیدہ  ویڈیو  بند کرنے والی تھی کہ بھٹا ٹھٹھک گیا اور بولا روکو۔۔۔روکو ۔۔ وڈیو کو روک کر پوچھا ۔۔۔ یہ لڑکی جو دروازے سے اندر داخل ہو رہی ہے یہ کون ہے۔۔۔۔؟؟؟؟
  سر جی۔۔۔  یہ لڑکی اس کی سہیلی ہے جس کا باپ آرمی میں ہے  ۔ اور یہ کبھی کبھی ہوسٹل آتی ہے  ۔ بھٹہ شاہ  نے مووی  پیچھے  کی  اور دیکھنے لگا کہ ،  نہایت مہذب انداز سے ایک لڑکی دروازے سے اندر داخل ہوتی ہے ۔  اس کے سر پر حجاب چہرے پر  فل نقاب تھا ۔  جسے وہ لڑکیوں کے کمرے میں آنے کی وجہ سے اتار رہی تھی  ۔ ۔۔بھٹہ کی شیطانی آنکھوں میں عجیب سی چمک آ گئی ۔۔۔ اسکی معصومیت  دیکھ کر   مچل اٹھا اور بولا   .  بس بس بس یہی  لڑکی چاہیے۔ بھٹا  نے انتہائی مکروہ  لہجے میں کہا ۔ بس  یہ مل گئی تو ٹھنڈ پڑ جائے گی باقی لڑکیاں بعد میں بلاتا رہوں گا ۔    .        
  حمیدہ اس مشن پر ڈٹ جاؤ ایک ہفتے کے اندر اندر  لڑکی لادو۔۔ میں تمہیں مالا مال کڑ دونگا ۔۔۔
 حمیدہ نے بھٹا شاہ کا خشگوار موڈ دیکھتے ہوئے ہمت کی  اور کہا  . ۔  سر جی یہ کام بڑا مشکل ہے بڑا وقت لگے گا بڑی محنت درکار ہوگی ۔
فہمیدہ کی نیت کو بھانپتے ہوئے زلالت  بھرے الفاظ میں بولا خوش کر دوں گا تمہیں بھی  .   بس اسے ایک دفعہ ملا تو دو مجھے ٹھنڈ تو پڑھنے دو ۔ یہ لو فلحال  دو ہزار روپے لو اور موج کرو ۔ آج برے عرصے بعد کوئی کام کی  لڑکی دکھائی تم نے ۔ اور یاد رکھنا تمہارے پاس صرف ایک ہفتہ ھے ۔   نہیں تو ہفتے بعد    ساری رات تمہیں ہی  نچواتا رہوں گا۔  
حمیدہ کھسیانی ہو گئی ۔۔۔
سر جی اسے لاؤں کیسے ۔ یہ تو کبھی کبھی آتی ہے ۔
یہ تمہارا کام ھے حمیدہ ۔ باقی کوئی پاؤڈر چاہیے تو بتا دینا ۔ اور نئی لڑکیوں کو بھی ٹھوڑی ٹھوڑی ڈوز دینا شروع کر دو ۔ جب پوری طرح لت پڑ جائے گی تو  تبھی قابو کریں گے ناں ۔۔بھٹہ نے اپنے مخصوص شیطانی انداز سے  مسکرا کر کہا۔  
حمیدہ کے  واپس جانے کے بعد بھٹا  بار بار ویڈیو کو پیچھے کرتا اور دیکھتا لڑکی کے نقاب اتارنے والے کلپ کو زوم کرتا اور شیطانی ہنسی ہنسا اور بولا ۔  ۔لڑکی جتنی معصوم اور پاکیزہ ہو بھٹہ اتنا ہی خوش ہوتا ھے ۔۔
کانسٹیبل اسلم  ،  بھٹا شاہ کے  کالے کرتوت دیکھ کر دل ہی دل میں کڑھتا رہتا کہ کاش وہ اتنا طاقت ور ہوتا کہ بھٹا کو اس عہدے سے ہٹا سکتا یا کم از کم معصوم لڑکیوں کو اسکے چنگل سے بچا سکتا ۔ حمیدہ  اسکی حیوانیت کو مکمل تقویت پہنچانے میں مددگار ثابت ہوتی ۔  
اب مجھے  کچھ نا کچھ ضرور سوچنا چاہئے۔ اسلم  نے دل ہی دل میں ٹھان لی اور سوچ  لیا  ۔ سب سے پہلے گورنمنٹ کالج کے پرنسپل سے ملکر حمیدہ کو بے نقاب کیا جائے ۔ مگر بغیر ثبوت کے کوئی قدم اٹھانا انتہائی خطرناک ہو گا ۔ اسے وہ ویڈیو حاصل کرنا ہوگی جو بھٹا کیلئے بنا کر لائی ۔  بھٹا سے ٹکر لینا کوئی آسان کام نہیں ۔ یہی سوچ کر فیصلہ کیا کہ بھٹا کی حفیہ ویڈیو بنائے گا ۔چاہے اسکی جان ہی کیوں نہ چلی جائے ۔ ۔۔۔
حمیدہ ایک لالچی عورت تھی جسے بھٹہ نے خاص طور پر انہی کاموں کیلئے ہوسٹل کی بھولی بھالی لڑکیوں کو پھانسنے کیلئے رکھا تھا ۔ کئی معصوم لڑکیاں بھٹہ کے چنگل میں پھنس چکی تھیں ۔لیکن خاموش اپنی عزت بچانے کیلئے ہوسٹل سے بھاگ گئی ۔ کچھ نے تعلیم چھوڑ دی تاکہ دوبارہ بھٹہ کے ہاتھوں ذلیل نا ہوں ۔ کچھ معصوم لڑکیوں نے خود کشی کرلی اور کچھ وڈیو لیک ہو جانے کے ڈر سے ابھی تک بھٹہ کے ظلم کا نشانہ بنی ہوئی ہیں ۔
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔°°°°°°۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔°°°°۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
             سکینہ میں چاہتا ہوں  تم اب دوبئی   . شفٹ ہو جاؤ ۔  تمہارا خواب بھی پورا ہو جائے  گا  اور بچوں کی زندگی بھی بن جائے گی ۔ اسلم نے بیوی  کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ۔
لیکن آپ ۔۔۔۔ کیا آپ ساتھ چلیں گے ۔۔  ۔؟؟ سکینہ نے پوچھا ۔۔
نہیں سکینہ بیگم ۔۔مجھے یہاں اپنا فرض نبھانا ھے ۔ لیکن میں برابر رابطے میں رہوں گا ۔
آپ کے بغیر نا تو بچے راضی ہوں گے اور نا ہی میں جانے والی ہوں ۔
ضد مت کرنا سکینہ ۔۔اب تمہارا یہاں رہنا مجھے خطرے میں ڈال سکتا ہے ۔ کیوں کہ اب مجھے اپنے محکمے کے ساتھ ساتھ معصوم بچوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے ۔ ناسور کو جڑ سے اکھاڑنا ھے ۔کالی بھیڑوں کو بے نقاب کرنا ہے اور یہ اسی صورت ممکن ہے کہ سب سے پہلے میں اپنی فیملی کو کسی محفوظ مقام پر شفٹ کروں ۔ تمہارے تینوں بھائی وہیں ہیں اور وہ تم سبکی حفاظت کر سکیں گے ۔
لیکن یہ کام آپ ہی کیوں کریں گے ۔ ؟؟ دنیا اگے  سے اگے پہنچ گئی اور آپ ابھی تک ایک کا نسٹیبل ہی ہیں ۔ ایمانداری آپ کو کھا رہی ہے  ۔ آپ کو ساتھ چلنا ہو گا ۔ سکینہ نے برہمی کا اظہار کیا ۔  تم نہیں سمجھو گی ۔ بلکہ کوئی بھی نہیں سمجھ پائے گا ۔  میری زندگی کا اب کوئی بھروسہ نہیں ۔ کیوں کہ  ، یہ زندگی اب امانت ھے ۔  میرے محکمے کی ، میرے ملک اور میرے ملک کی  بچیوں کی ۔
میری جان بھی جا سکتی ہے ۔ مجھے کوئی پرواہ بھی نہیں ، لیکن  اگر تم لوگ محفوظ مقام پر پہنچ جاؤ ۔۔
بات اگر بچیوں کی عزت کی ہے تو آپ کے مشن میں ، میں آپ کے ساتھ کھڑی رہوں گی ۔
اسلم نے بھٹہ کے تمام کرتوت بیگم کو بتائے اور پاکستان سے چلے جانے پر  مجبور کیا ۔اور بتایا ۔۔
 بد قسمتی ، جس شخص سے ٹکر لینے لگا ہوں بڑے اثر رسو خ  والا ہے ۔
پھر تو میں ہرگز نہیں جانے والی ۔ ہاں بچوں کو ضرور بھیج دیں گے ۔ لیکن اس آگ میں آپ کو اکیلا نہیں کودنے دونگی ۔۔میں کسی نا کسی طرح لڑکیوں کے ہوسٹل تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش بھی کر لونگی ۔۔حد ممکن آپ کی مدد کروں گی ۔۔
کانسٹیبل اسلم نے مسکرا کر سکینہ کو سلیوٹ کیا اور بچوں کو جلد از جلد دوبئی بھجوانے کی تیاری شروع کر دی ۔۔۔۔

Khofnak Story in Urdu

 

Khofnak

Khofnak Story

رات کے تقریباً ایک بجے کا وقت تھا۔سردیاں اپنے عروج پر تھیں۔میں مہر پور گاؤں  جانے کے لیے بس اسٹاپ پر اتر چکا تھا۔۔۔۔۔بس اسٹاپ پر موجود اکادکا چھوٹی موٹی دکانیں بند ہوچکی تھیں۔کسی بشر کا شبہ تک نہیں ہوتا تھا۔دسمبر کی  یخ بستہ چلنے والی  ٹھنڈی ہواوں نے ہر طرف ہو کا عالم طاری کر رکھا تھا۔
میں بس سے اترنے کے بعد پریشانی کے عالم میں اپنا بیگ گھسیٹتا ہوا سڑک کنارے کھڑا ہوگیا۔
نور پور جانے کے لیے مجھے اس سے آگے کا راستہ معلوم نہیں تھا۔ایک منٹ میں نے اپنا تعارف تو کرایا ی نہیں۔میرا نام حسن علی ہے۔اور پیشے کے لحاظ سے میں ایک استاد ہوں۔میری عمر کوئی تینتیس سال ہوگی۔
شادی شدہ  اور دو بچوں کا باپ ہوں۔نور پور کے  اسکول میں میرا تبادلہ ہوا تھا۔اسی سلسلے میں نور پور پہنچا تھا۔
اسکول کے پرنسپل نے مجھے خط میں بتا دیا تھا۔کہ اسکول کا چپڑاسی مجھے بس اسٹاپ پر تانگے سمیت ملے گا۔پھر وہی مجھے اسکول سے ملحقہ سرکاری رہائش میں لے جائے گا۔
مگر وہ بے چارہ شاید میرا انتظار کرتے کرتے واپس چلا گیا تھا۔۔۔۔کیونکہ نور پور جانے والی ایک بس مجھ سے چھوٹ گئی تھی۔
دوسری بس نے مجھے ایک بجے یہاں لا کر کھڑا کر دیا۔۔۔۔
دھند کی وجہ سے ہر طرف بیابان نظر آتا تھا۔میں پریشانی کے عالم میں جہاں تک ممکن تھا۔دیدے پھاڑ پھاڑ کے چاروں طرف دیکھ رہا تھا۔
سردی سے میری ٹانگیں کپکپانا شروع ہو گئیں تھیں۔یہ اس بات کا اشارہ تھا۔کہ جلد سے جلد مجھے اپنے لیے ٹھہرنے کا انتظام کر لینا چائیے۔جو کہ فی الحال نظر نہیں آ رہا تھا۔
میں نے بیگ میں رکھی ٹارچ نکالی ۔اور اسے بٹن دبا کر آن کیا۔اتنے میں میرے کانوں میں لاٹھی ٹیکنے کی آواز آنے لگی۔جیسے کوئی بوڑھا شخص آہستہ آہستہ سڑک پر لاٹھی ٹیکتے ہوئے میری طرف آ رہا ہو۔میرا دل اضطراب کے مارے بلیوں اچھلنے لگ گیا۔میں نے ٹارچ کا رخ آواز کی سمت کیا۔۔۔۔مگر دھند کی وجہ سے روشنی شرما کر جیسے واپس آ گئی تھی۔آواز بدستور میری طرف بڑھ رہی تھی۔مگر ہیولا تک نظر نہی آ رہا تھا۔۔۔۔۔کافی دیر تک آواز آتی رہی۔۔۔۔تو میں خود بے چین ہو کر آواز کی سمت بڑھا ۔۔۔۔۔شاید کسی کو میری ضرورت ہو۔
میں بیگ کو سائیڈ پر کر کے چل پڑا۔۔۔۔۔۔تھوڑی دور چلا مگر کوئی بندہ نہ۔بندے کی ذات نظر آ ئی۔۔۔۔آواز تھی جو آئے جا رہی تھی۔
میں حیران ہو۔کر کہ شاید کوئی واپس مڑ گیا ہوا
تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا آواز کے تعاقب میں دوڑ پڑا۔دوڑتے دوڑتے میں یہ بھی بھول گیا۔۔۔۔۔۔کہ مجھے نور پور جانا تھا ۔اور میں کس چکر میں لگ گیا ہوں۔طیش میں آ کر میں نے ہوا میں مکا لہرایا۔
اور پلٹ کر واپس چل پڑا۔۔۔۔۔۔ابھی دو تین قدم ہی اٹھائیں ہونگے کہ کسی نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔سخت سردی میں میرا بدن کپکپا رہا تھا۔مگر وہ ہاتھ تو جیسے برف کی مانند تھا۔
پہلی بار خوف کے مارے میرے پورے بدن میں سنسنی پھیل گئی۔اور میں نے ڈرتے ہوئے اپنی گردن پیچھے موڑی۔
میرے سامنے ایک بوڑھا جس نے سردی کی وجہ سے منہ پر  دیہاتیوں کے جیسے کپڑا لپیٹ رکھا تھا۔کپکپاتے ہاتھ سے لاٹھی تھامے ہوئے مجھے دیکھ رہا تھا۔بوڑھے کو یوں سردی میں ٹھٹھرتا دیکھ کر میرا سارا غصہ کافور ہوگیا۔اور میںں نے حیرت سے پوچھا۔۔۔۔۔ بابا جی۔۔۔۔آپ کہاں تھے۔۔۔۔۔اپ کی لاٹھی کی  آواز سن کر میں نے آپکو بہت ڈھونڈا۔۔۔۔مگر آپ نظر نہی آئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیٹا میں چلتے چلتے تھک گیا تھا ۔۔۔۔۔۔ ذرا دیر کے لیے سستانے بیٹھ گیا۔
اوہ میرے خدایا۔۔۔اچانک میرے منہ سے نکلا۔۔۔آواز کے پیچھے میں پاگل ہو کر دور رہا تھا۔شاید اس بے چینی میں میری نظر بیٹھے ہوئے بوڑھے پر نہ پڑی ہو۔میں نے دل ہی دل میں خود کو کوسا۔۔۔۔۔اور بوڑھے کا ہاتھ پکڑ کر پوچھا ۔۔۔۔۔اپ نے کہاں جانا ہے
بوڑھے نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا
اور کہا۔۔۔۔۔تم۔اس علاقے میںں نئے آئے ہو شاید
میں بوڑھے کی نظر اور پہچان کا قائل ہو گیا۔
جی بابا جی ۔۔۔۔میں ابھی ابھی یہاں آیا ہوں
نور پور سکول کا نیا استاد ہوں۔۔۔۔۔شہر سے یہاں تبادلہ ہوا ہے۔۔۔۔۔۔میں نے بوڑھے کے سوال کا جواب دیا۔۔۔۔۔
تو یہاں کیا کر رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔بوڑھے نے ذرا غصیلے لہجے میں کہا
ابھی بس سے اترا ہوں۔نور پور کا راستہ معلوم۔نہی
انتظار میںں کھڑا تھا۔۔۔۔۔کوئی آئے تو راستہ معلوم ۔کروں۔۔۔۔۔۔۔۔چلو آو۔۔۔میرے پیچھے۔۔۔۔۔ بوڑھے نے کہا
اور وہ لاٹھی ٹیکتا ہوا بنا میری بات سنے چل پڑا۔
حیرت انگیز طور پر اس کے چلنے کی  رفتار اچھی خاصی تھی۔۔۔۔۔میں باوجود کوشش کے اس کے برابر نہی چل پا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔آہستہ آہستہ یہ فاصلہ بڑھنے لگا
۔۔۔۔۔اتنے میں ہم بس اسٹاپ پہنچ گئے۔۔۔۔۔میں نےلپک کر اپنا سامان اٹھایا۔۔۔۔۔۔۔۔اور بوڑھے کے پیچھے چل پڑا۔ایسے لگ رہا تھا میرے ایک قدم کے مقابلے میں وہ تین قدم اٹھا رہا ہے۔بھاگ بھاگ کر مجھے سانس چڑھ گیا تھا۔۔۔۔میںں نے آوازیں دے کر بوڑھے کو روکا بھی۔۔مگر۔بوڑھا آہستہ آہستہ دھند میں غائب ہوتا جا رہا تھا۔اس ساری بھاگ دوڑ میں مجھے تھکاوٹ کی وجہ سے پسینہ آ رہا تھا۔۔۔۔۔۔بوڑھا ہیولے کی طرح مجھے نظر آ رہا تھا۔
میںں نے تھک کر بیگ نیچے پھینکا اور بیٹھ کر سستانے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اچانک سے پھر کسی نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔۔میں بدکے ہوئے گھوڑے کی طرح اچھلا
اور گھوم کر دیکھا ۔۔۔۔۔تو وہی بوڑھا کھڑا مجھے دیکھ رہا۔تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بابا جی آپ
میرے منہ سے بے ساختہ نکلا اور میں دوسری طرف اس ہیولے کو بھی دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔جو ابھی تک مجھے نظر آ رہا تھا۔
پیاس لگی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔یہ پی لو۔۔۔۔۔۔
اس نے ایک بوتل مجھے تھما دی۔۔۔۔۔میرا گلہ  خشک ہو رہا تھا۔۔۔۔۔میں نے جلدی سے ڈھکنا کھولا اور  بوتل منہ سے لگا کر غٹا غٹ پینے لگ گیا۔
پانی کا ذائقہ مجھے ذرا نمکین لگا اور گاڑھا بھی
میں نے بوتل منہ۔سے ہٹا کر ٹارچ کی روشنی میں  دیکھی۔۔۔۔۔۔۔تو فوراً قے  آ گئی
بوتل میں لیس دار گاڑھا خون تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے کھانستے ہوئے زور لگا کر قے کی۔۔اور سارا  خون  باہر نکال کر رکھ دیا۔۔۔اور غصے سے بوڑھے کو دیکھا ۔۔۔۔۔جو میری کیفیت دیکھ کر قہقہے لگا رہا تھا۔۔۔۔۔
اور ساتھ ہی اپنے چہرے سے لپیٹا ہوا کپڑا اتارنا شروع کر دیا۔جیسے جیسے وہ کپڑا اتار رہا تھا ۔۔۔۔۔۔وہ کپڑا خون آلود ہو رہا تھا۔پورا کپڑا اس کے چہرے سے اتر چکا تھا۔اس کی خوفناک شکل دیکھ کر میرے اوسان خطا ہو گئے۔منہ پر صرف دانت تھے۔۔جن سے خون رس رہا تھا۔۔اوپر نیچے کے دونوں ہونٹ غائب تھے۔ناک کی جگہ بس گڑھے تھے۔اوپر سے اسکی شیطانی ہنسی جو میری جان نکالے جا رہی تھی۔اور اسکے غلیظ چہرے کو اور بھیانک۔۔۔۔
میں نے جلدی سے بیگ چھوڑا۔۔۔۔۔۔اور ٹارچ ہاتھ میں لیے چیختا چلاتا سمت کا تعین کیے بغیر بھاگ پڑا۔بس اتنا پتہ تھا۔۔۔۔۔جہاں بھاگا جا رہا ہوں
وہ جگہ جھاڑیوں سے اٹی پڑی تھی۔کانٹے دار جھاڑیاں میری ٹانگوں کو لگ لگ کر زخمی کر رہی تھی۔پتہ نہی کتنا بھاگا۔۔۔جب ٹانگوں میں بھاگنے کی سکت ختم ہو گئی تو کسی چیز سے ٹھوکر کھا کر گر پڑا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ اور کسی گڑھے نما چیز میں جا گرا ۔
اور سانس روک کر بے سدھ ہوگیا۔۔۔۔جیسے بلی کو دیکھ کر کبوتر ہوجاتا ہے۔جب سے بھاگا تھا ۔تب سے وہ شیطانی بلا نظر نہیں آئی تھی۔
میں گڑھے میں دبکا پڑا تھا۔۔۔۔۔کہ اتنے میں ایک بار پھر وہی لاٹھی کی ٹک ٹک سنائی دینے لگ گئی۔جو ایک بار پھر میری طرف بڑھ رہی تھی۔سر سے پاؤں تک جسم کے بال مارے خوف کے  کھڑے ہوگئے تھے۔
جی کرتا تھا زور زور سے چلاؤں ۔۔۔۔۔۔۔ ساری دنیا کو اپنی مدد کے لیے بلا لوں۔۔۔۔۔۔
جو میرے ساتھ بیت رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ایسا تو کہانیوں میں ہوتا ہے۔۔۔۔۔ مگر زندگی بھی تو کبھی کبھی کسی کہانی کا روپ دھار لیتی ہے۔اور پھر یہ کہانی اپنی مرضی کا اختتام کرتی ہے۔
میں نے ہاتھ میں پکڑی ٹارچ لائٹ آن کر کے گڑھے میںں روشنی کی۔۔۔۔۔۔۔تو نیا دھچکا لگا ۔۔۔۔۔ جہاں میں گرا پڑا تھا ۔۔۔وہ گڑھا نہیں۔۔۔۔ ایک ٹوٹی ہوئی قبر تھی۔۔۔۔۔  مطلب میں بھاگتے بھاگتے کسی قبرستان میں آ گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔قبرستان کا سوچ کر  خوف کی ایک اور لہر پورے جسم میں پھیل گئی۔۔۔۔لاٹھی کی ٹک ٹک کی آواز ابھی بھی آ رہی تھی۔کہ یکایک ایک ہاتھ نے میری گردن پکڑی۔
ہاتھ کا لمس محسوس کر کے سمجھ گیا یہ وہی شیطانی بلا ہے۔۔۔۔۔   خوف کے مارے میری چیخ بھی نہ نکل سکی۔۔۔۔۔۔ہاتھ میں بلا کی طاقت تھی۔۔۔اس نے مجھے تنکے کی طرح گڑھے سے نکال کر زمین پر پھینک دیا۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے روتے ہوئے کہا
مجھے مت مارو۔۔۔۔۔۔۔ میں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے
میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔
ھاھاھاھاھاھاھاھاھا۔۔۔اس نے ایک لمبہ قہقہہ لگایا
اور بولا۔۔۔۔۔۔۔مجھے پیاس لگی ہے۔۔۔۔تیرا خون پینا ہے۔مجھے بھوک لگی ہے۔۔۔۔۔تیرا گوشت کھانا ہے۔
رات کے اس پہر جب دنیا سو جاتی ہے۔تو شیطان اپنے شکار پر نکلتے ہیں۔۔۔۔۔آج میرا شکار تو ہے۔
تجھے میرے ہاتھوں سے بچانے والا کوئی نہیں۔
یہ کہہ کر اس نے اپنا ہاتھ میری طرف بڑھایا۔
وہ۔مجھ سے کافی دور کھڑا تھا ۔۔۔مگر اس کا ہاتھ لمبا ہوتا ہوتا میری گردن پر پہنچ چکا تھا۔
اس کے سخت کھردرے ناخن میری گردن میں چبھ رہے تھے۔میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور جھٹکا دے کر اپنی گردن آزاد کروائی۔۔۔۔۔اور ایک بار پھر کانپتی ٹانگوں سے بھاگنا شروع کر دیا ۔۔۔۔۔۔دہشت اور خوف کے مارے قبروں سے ٹکرا ٹکرا کر بار بار گر رہاتھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بھاگتے بھاگتے میری نظر قبرستان میں اگے درختوں پر پڑی۔وہاں چھوٹے چھوٹے بچے پرندوں کی مانند ٹہنیوں پر بیٹھے مجھے گھور رہے تھے۔ان کی الووں جیسی بڑی بڑی آنکھوں میں بلا کا طلسم تھا۔جو میری طاقت کو شل کر رہا تھا۔
اس اثنا میں میرا وجود کسی سے ٹکرا گیا۔
پورا قبرستان میرے منہ سے نکلنے والی چیخوں سے گونج اٹھا۔۔۔۔۔میں گر کر اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔۔
 سامنے جو دیکھا تو  ایک باریش سفید کپڑوں میں ملبوس نورانی چہرے والے ایک بزرگ کھڑے تھے۔میں جلدی سے بھاگ کر انکی طرف بڑھا۔۔۔۔۔
اور چیخنے لگا ۔۔۔۔۔مجھے بچا لو
مجھے بچا لو۔۔۔۔۔۔وہ شیطانی بلا میرے پیچھے پڑی ہے۔۔۔۔۔۔۔     اس بزرگ نے ہاتھ کی انگلی اپنے ہونٹوں پر رکھتے ہوئے مجھے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔۔۔
اتنے میں میرے پیچھے وہی شیطانی بلا لاٹھی سے ٹک ٹک کرتی آ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔بزرگ نے مجھے کہا
بولو۔۔۔۔۔۔  زور سے بولو
حق ھو۔۔۔۔۔  اللہ ھو
ہر درد کی دوا۔۔۔۔۔اللہ ھو
مشکل کشاء۔۔۔۔اللہ ھو
جیسے اسکے منہ سے ھو کی آواز نکلی۔۔۔۔ درختوں پر بیٹھے بچوں نما پرندے پھڑپھڑا کر اڑنے لگے۔۔۔پورے قبرستان کی فضا ان سے بھر گئی۔۔۔۔۔وہ بوڑھا جو میرے قریب آ چکا تھا۔
بزرگ نے چیختے ہوئے مجھے کہا
بولو۔۔۔۔۔۔
حق ھو۔۔۔۔۔اللہ ھو
میں نے زور زور سے دیوانہ وار بولنا شروع کردیا۔
حق ہو ۔۔۔۔اللہ ھو
ہر درد کی دوا۔۔۔۔اللہ ھو
مشکل کشا۔۔۔۔اللہ ھو
 بوڑھے کے ہاتھ سے لاٹھی گر گئی۔۔۔۔اور وہ سر تھامتے ہوئے زمین پر گر گیا۔
پھر ایک گدھ کی شکل اختیار کرکے اڑ گیا۔
میرے باختہ حواس ورد کرتے کرتے کنٹرول میں آ رہے تھے۔دل کی بے چین دھڑکنیں پر سکون ہونے لگی تھیں۔میں اس بزرگ کو دیکھے جا رہا تھا۔
جس کا چہرہ چاند کی طرح چمک رہاتھا۔۔۔میں نے آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ چومنے چاہے۔۔۔۔مگر وہ تو ہوا کی مانند کھڑا مسکرا رہا تھا۔۔۔۔
پھر وہ مجھ سے مخاطب ہوا۔۔۔۔ بیٹے انسان کے اندر  خوف اور ڈر پیدا کرکے اس پر قبضہ  کرنا شیطانی طاقتوں کا سب سے بڑا ہتھیار ہوتا ہے۔۔۔۔اپنے دل کو ہر وقت اللہ کے ذکر سے پر سکون رکھو۔۔۔
پھر ہوا کے جھونکے کی طرح وہ بزرگ بھی ہوا میں تحلیل ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔میں انہیں جاتا دیکھ ہی رہا تھا
کہ میرے کانوں میں آواز پڑی
اللہ و اکبر۔۔۔۔۔اللہ و اکبر
فجر کی اذان کی آواز تھوڑے فاصلے سے آ رہی تھی۔
میں آواز کی سمت چل پڑا۔۔۔۔۔تھوڑی دیر میں ایک گاؤں میں داخل ہو گیا۔جس کے بورڈ پر نور پور لکھا ہوا تھا۔مسجد کے امام صاحب سے اسکول کے چپڑاسی کا پتہ معلوم کرکے اس سے اپنے لیے الاٹ کیا ہوا گھر کھلوایا۔۔۔۔۔میری حالت دیکھ کر وہ پریشان ہوگیا۔۔۔۔۔اسکو میں نے بس اتنا کہا۔۔۔۔کہ آوارہ کتے میرے پیچھے لگ گئے تھے۔۔۔سامان والا بیگ بھی کہی گر گیا ہے۔۔۔۔۔۔بڑی مشکل سے یہاں پہنچا ہوں۔۔۔۔اس نے مجھے اپنے گھر سے دھوتی اور قمیض لاکر دی۔۔۔۔نہا دھو کر میں نے گاؤں کی مسجد میں نماز پڑھی۔صبح ناشتہ گاؤں کے چودھری کے پاس کیا ۔۔۔وہی چپڑاسی میرا بیگ بھی تلاش کر کے آگیا۔وہاں سے سیدھا میں اسکول گیا۔۔۔جہاں میری کلاس کے بچے اپنے نئے استاد سے ملنے کو بے تاب بیٹھے تھے۔۔۔۔
اتنے میں کلاس کے مانیٹر نے کہا
کہ سر آج سبق کہاں سے شروع کریں گے۔
تو میں نے کہا
سبق وہی سے شروع کریں گے۔۔۔۔جو آج مجھے ملا ہے۔۔۔۔۔۔
حق ھو ۔۔۔۔اللہ ھو
ہر درد کی دوا ۔۔۔۔۔ اللہ ھو
مشکل کشاء۔۔۔۔۔۔اللہ ھو
حق ھو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر کے بعد کلاس کے سب بچے دیوانہ وار یہ ورد دہرا رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔

Thursday, January 6, 2022

Seerat-Un-Nabi Episode No.01 Zam Zam Ki Khudaai

*سیرت النبی ﷺ*

*عنوان: زم زم کی کھدائی*

*قسط نمبر 1*
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ١۲ بیٹے تھے - ان کی نسل اسقدر ہوئی کے مکہ مکرمہ میں نہ سما سکی اور پورے حجاز میں پھیل گئی - ان کے ایک بیٹے قیدار کی اولاد میں عدنان ہوئے - عدنان کے بیٹے معد اور پوتے کا نام نزار تھا - نزار کے چار بیٹے تھے - ان میں سے ایک کا نام مضر تھا - مضر کی نسل سے قریش بن مالک پیدا ہوئے" یہ فہر بن مالک بھی کہلائے - قریش کی اولاد بہت ہوئی - ان کی اولاد مختلف قبیلوں میں بٹ گئی - ان کی اولاد سے قصیّ نے اقتدار حاصل کیا - قصیّ کے آگے تین بیٹے ہوئے - ان میں سے ایک عبد مناف تھے جن کی اگلی نسل میں ہاشم پیدا ہوئے -
ہاشم نے مدینہ کے ایک سردار کی لڑکی سے شادی کی " ان کے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوا " اس کا نام شیبہ رکھا گیا - یہ پیدا ہی ہوا تھا کہ ہاشم کا انتقال ہوگیا- ان کے بھائی مطلّب مکہ کے حاکم ہوئے - ہاشم کا بیٹا مدینہ منورہ میں پرورش پاتا رہا " جب مطلّب کو معلوم ہوگیا کہ وہ جوان ہوگیا ہے تو بھتیجے کو لینے کے لیے خود مدینہ گئے - اسے لیکر مکہ مکرمہ پہنچے تو لوگوں نے خیال کیا یہ نوجوان ان کا غلام ہے - مطلّب نے لوگوں کو بتایا " یہ ہاشم کا بیٹا اور میرا بھتیجا ہے " اس کے باوجود لوگوں نے اسے مطلّب کا غلام ہی کہنا شروع کردیا - اس طرح شیبہ کو عبدالمطلب کہا جانے لگا - انہیں عبدالمطلب کے یہاں ابوطالب حمزہ, عبّاس, عبداللہ, ابولہب, حارث, زبیر, ضرار, اور عبدالرحمن پیدا ہوئے- ان کے بیٹے عبداللہ سے ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم پیدا ہوئے۔
عبدالمطلب کے تمام بیٹوں میں حضرت عبداللہ سب سے زیادہ خوبصورت اور سب سے زیادہ پاکدامن تھے - عبدالمطلب کو خواب میں زمزم کا کنواں کھودنے کا حکم دیا گیا " یعنی حضرت اسماعیل علیہ السلام کے کنویں کو, اس کنویں کو قبیلہ
جرہم کے سردار مضاض نے پاٹ دیا تھا - قبیلہ جرہم کے لوگ اس زمانہ میں مکہ کے سردار تھے " بیت اللہ کے نگراں تھے - انہوں نے بیت اللہ کی بے حرمتی شروع کردی - ان کا سردار مضاض بن عمرو تھا " وہ اچھا آدمی تھا اس نے اپنے قبیلے کو سمجھایا کہ بیت اللہ کی بے حرمتی نہ کرو مگر ان پر اثر نہ ہوا " جب مضاض نے دیکھا کہ ان پر کوئی اثر نہ ہوتا تو قوم کو اس کے حال پر چھوڑ کر وہاں سے جانے کا فیصلہ کیا- اس نے تمام مال و دولت تلواریں اور زرہیں وغیرہ خانۂ کعبہ سے نکال کر زمزم کے کنویں میں ڈالدیں اور مٹی سے اسکو پاٹ دیا - کنواں اس سے پہلے ہی خشک ہوچکا تھا-
اب اس کا نام و نشان مٹ گیا - مدتوں یہ کنواں بند پڑا رہا اس کے بعد بنو خزاعہ نے بنو جرہم کو وہاں سے مار بھگایا " بنو خزاعہ اور قصیّ کی سرداری کا زمانہ اسی حالت میں گذرا - کنواں بند رہا یہاں تک کے قصیّ کے بعد عبدالمطلب کا زمانہ آگیا" انہوں نے خواب دیکھا " خواب میں انہیں زمزم کے کنویں کی جگہ دکھائی گئی اور اس کے کھودنے کا حکم دیا گیا-
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عبدالمطلب نے بتایا :-
" میں حجر اسود کے مقام پر سورہا تھا کہ میرے پاس ایک آنے والا آیا - اس نے مجھ سے کہا "طیبہ کو کھودو "
میں نے اس پوچھا "طیبہ کیا ہے؟"
مگر وہ کچھ بتائے بغیر چلاگیا - دوسری طرف رات پھر خواب میں وہی شخص آیا " کہنے لگا "برہ کو کھودو "
میں نے پوچھا "برّہ کیا ہے" وہ کچھ بتائے بغیر چلے گیا-
تیسری رات میں اپنے بستر پر سورہا تھا کہ پھر وہ شخص خواب میں آیا - اُس نے کہا " مضنونہ کھودو "
میں نے پوچھا " مضنونہ کیا ہے؟" وہ بتائے بغیر چلا گیا -
اس سے اگلی رات میں پھر بستر پر سورہا تھا کہ وہی شخص پھر آیا اور بولا "زم زم کھودو " میں نے اس سے پوچھا "زم زم کیا ہے؟ " اس بار اس نے کہا:
" زمزم وہ ہے جس کا پانی کبھی ختم نہیں ہوتا, جو حاجیوں کے بڑے بڑے مجموعوں کو سیراب کرتا ہے "
عبدالمطلب کہتے ہیں, میں نے اس سے پوچھا
"یہ کنواں کس جگہ ہے؟ "
اس نے بتایا -
"جہاں گندگی اور خون پڑا ہے, اور کوّا ٹھونگیں مار رہا ہے"
دوسرے دن عبدالمطلب اپنے بیٹے حارث کے ساتھ وہاں گئے - اس وقت ان کے یہاں یہی ایک لڑکا تھا - انہوں نے دیکھا وہاں گندگی اور خون پڑا تھا اور ایک کوّا ٹھونگیں مار رہا تھا, اس جگہ کے دونوں طرف بُت موجود تھے اور یہ گندگی اور خون دراصل ان بتوں پر قربان کئیے جانے والے جانوروں کا تھا, پوری نشانی مل گئی تو عبدالمطلب کدال لے آئے اور کھدائی کے لئیے تیار ہوگئے لیکن اس وقت قریش وہاں آ پہنچے -انہوں نے کہا :
" اللہ کی قسم ہم تمہیں یہاں کھدائی نہیں کرنے دیں گے, تم ہمارے ان دونوں بُتوں کے درمیاں کنواں کھودنا چاہتے ہو جہاں ہم ان کے لئیے قربانیاں کرتے ہیں- "
عبدالمطلب نے ان کی بات سن کر اپنے بیٹے حارث سے کہا :
"تم ان لوگوں کو میرے قریب نہ آنے دو, میں کھدائی کا کام کرتا رہوں گا اس لئیے کہ مجھے جس کام کا حکم دیا گیا ہے میں اس کو ضرور پورا کروں گا- "
قریش نے جب دیکھا کہ وہ باز آنے والے نہیں تو رک گئے - آخر انھوں نے کھدائی شروع کردی - جلد ہی کنویں کے آثار نظر آنے لگے - یہ دیکھ کر انہوں نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا اور پکار اٹھے
" یہ دیکھو یہ اسماعیل علیہ السلام کی تعمیر ہے "
جب قریش نے یہ دیکھا کہ انہوں نے کنواں تلاش کرلیا تو ان کے پاس آگئے اور کہنے لگے :
"عبدالمطلب اللہ کی قسم " یہ ہمارے باپ اسماعیل علیہ السلام کا کنواں ہے اور اس پر ہمارا بھی حق ہے" اس لئیے ہم اس میں تمہارے شریک ہوں گے -"
یہ سن کر عبدالمطلب نے کہا :
" میں تمہیں اس میں شریک نہیں کرسکتا " یہ مجھ اکیلے کا کام ہے"
اس پر قریش نے کہا :
" تب پھر اس معاملے میں ہم تم سے جھگڑا کریں گے"
عبدالمطلب بولے :
" کسی سے فیصلہ کروالو "
انہوں نے بنوسعد ابن ہزیم کی کاہنہ سے فیصلہ کرانا منظور کیا - یہ کاہنہ ملک شام کے بالائی علاقے میں رہتی تھی - آخر عبدالمطلب اور دوسرے قریش اس کی طرف روانہ ہوئے - عبدالمطلب کے ساتھ عبدمناف کے لوگوں کی ایک جماعت تھی -
جبکہ دیگر قبائل قریش کی بھی ایک ایک جماعت ساتھ تھی - اس زمانہ میں ملک حجاز اور شام کے درمیان ایک بیابان میدان تھا , وہاں کہیں پانی نہیں تھا - اس میدان میں ان کا پانی ختم ہوگیا - سب لوگ پیاس سے بے حال ہوگئے, یہاں تک کہ انہیں اپنی موت کا یقین ہوگیا - انہوں نے قریش کے دوسرے لوگوں سے پانی مانگا لیکن انہوں نے پانی دینے سے انکار کردیا - اب انہوں نےادھر ادھر پانی تلاش کرنے کا ارادہ کیا -
عبدالمطلب اٹھ کر اپنی سواری کے پاس آئے, جوں ہی ان کی سواری اٹھی, اس کے پاؤں کے نیچے سے پانی کا چشمہ ابل پڑا - انہوں نے پانی کو دیکھ کر اللہ اکبر کا نعرہ لگایا - پھر عبد المطلب سواری سے اتر آئے - سب نے خوب سیر ہوکر پانی پیا اور اپنے مشکیزے بھر لیے - اب انہوں نے قریش کی دوسری جماعت سے کہا:"آؤ تم بھی سیر ہوکر پانی پی لو -" اب وہ بھی آگے آئے اور خوب پانی پیا - پانی پینے کے بعد وہ بولے:
" اللہ کی قسم.... اے عبدالمطلب! یہ تو تمہارے حق میں فیصلہ ہوگیا - اب ہم زمزم کے بارے میں تم سے کبھی جھگڑا نہیں کریں گے - جس ذات نے تمہیں اس بیابان میں سیراب کردیا، وہی ذات تمہیں زمزم سے بھی سیراب کرے گا، اس لیے یہیں سے واپس چلو -"
اس طرح قریش نے جان لیا کہ اللہ تعالیٰ عبدالمطلب پر مہربان ہے، لہٰذا ان سے جھگڑنا بے سود ہے اور کاہنہ کے پاس جانے کا کوئی فائدہ نہیں، چنانچہ سب لوگ واپس لوٹے -
واپس اکر عبدالمطلب نے پھر کنویں کی کھدائی شروع کی - ابھی تھوڑی سی کھدائی کی ہوگی کہ مال، دولت، تلواریں اور زرہیں نکل آئیں - اس میں سونا اور چاندی وغیرہ بھی تھی - یہ مال ودولت دیکھ کر قریش کے لوگوں کو لالچ نے آگھیرا - انہوں نے عبدالمطلب سے کہا :
"عبدالمطلب! اس میں ہمارا بھی حصہ ہے -"
ان کی بات سن کر عبدالمطلب نے کہا :
"نہیں! اس میں تمہارا کوئی حصہ نہیں، تمہیں انصاف کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے - آؤ پانسو کے تیروں سے قرعہ ڈالیں -"
انہوں نے ایسا کرنا منظور کرلیا - دو تیر کعبے کے نام سے رکھے گئے، دو عبدالمطلب کے اور دو قریش کے باقی لوگوں کے نام کے.... پانسہ پھینکا گیا تو مال اور دولت کعبہ کے نام نکلا، تلواریں اور زرہیں عبدالمطلب کے نام اور قریشیوں کے نام کے جو تیر تھے وہ کسی چیز پر نہ نکلے - اس طرح فیصلہ ہوگیا - عبدالمطلب نے کعبے کے دروازے کو سونے سے سجا دیا -
زمزم کی کھدائی سے پہلے عبدالمطلب نے دعا مانگی تھی کہ اے اللہ! اس کی کھدائی کو مجھ پر آسان کردے، میں اپنا ایک بیٹا تیرے راستے میں ذبح کروں گا - اب جب کہ کنواں نکل آیا تو انہیں خواب میں حکم دیا گیا -
"اپنی منت پوری کرو، یعنی ایک بیٹے کو ذبح کرو -"

Khamosh Dost - Urdu Kahani

                                                   


        

                                                           " خاموش دوست "

جوانی میں انسان باپ کو شک کی نگاہ سے دیکھتا رہتا ہے , جیسے باپ کو ہمارے مسائل ,تکلیفوں یا ضرورتوں کا احساس ہی نہیں . یہ نئے دور کے تقاضوں کو نہیں سمجھتا .
کبھی  کبھی ہم اپنے باپ کا موازنہ بھی کرنا شروع کر دیتے ہیں , " اتنی محنت ہمارے باپ نے کی ہوتی , بچت کی ہوتی ,کچھ بنایا ہوتا ,تو آج ہم بھی ...فلاں کی طرح عالیشان گھر ,گاڑی میں گھوم رہے ہوتے "
" کہاں ہو ? کب آو گے ? زیادہ دیر نہ کرنا " جیسے سوالات انتہائی فضول اور فالتو سے لگتے ہیں .
" سویٹر تو پہنا ہے کچھ اور بھی پہن لو سردی بہت ہے "  انسان سوچتا ہے کہ اولڈ فیشن کی وجہ سے والد کو باہر کی دنیا کا اندازہ نہیں .
اکثر اولادیں اپنے باپ کو ایک ہی معیار پر پرکھتی ہیں  ,گھر ,گاڑی ,پلاٹ , بینک بیلنس ,کاروبار اور اپنی ناکامیوں کو باپ کے کھاتے میں ڈال کر خود سرخرو ہو جاتے ہیں " ہمارے پاس بھی کچھ ہوتا تو اچھے اسکول میں پڑھتے ,کاروبار کرتے "
اس میں شک نہیں ,اولاد کے لئے آئیڈیل بھی انکا باپ ہی ہوتا ہے لیکن کچھ باتیں , جوانی میں سمجھ نہیں آتیں یا ہم سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے ,اسلئے کہ ہمارے سامنے , وقت کی ضرورت ہوتی ہے , دنیا سے مقابلے کا بھوت سوار ہوتا ہے , جلد سے جلد سب کچھ پانے کی جستجو میں ہم کچھ کھو بھی رہے ہوتے ہیں , جسکا احساس بہت دیر سے ہوتا ہے .
بہت سی اولادیں , وقتی محرومیوں کا  پہلا  ذمہ دار اپنے باپ کو قرار دے کر ,ہر چیز سے بری الزمہ ہو جاتی ہیں .
وقت گزر جاتا ہے ,اچھا بھی برا بھی ,اور اتنی تیزی سے گزرتا ہے کہ انسان پلک  جھپکتے ماضی کی کہانیوں کو اپنے ارد گرد منڈلاتے دیکھنا شروع کر دیتا ہے .     جوانی ,پڑھائی ,نوکری ,شادی ,اولاد اور پھر وہی اسٹیج وہی کردار , جو نبھاتے ہوئے ,ہر لمحہ , اپنے باپ کا  چہرہ آنکھوں کے سامنے آ آ کر , باپ کی  ہر سوچ ,احساس ,فکر ,پریشانی ,شرمندگی اور اذیت کو ہم پر کھول کے رکھ دیتا ہے .

Aurat Aur Hamara Ravaya - Urdu Kahani

 

یا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ہمارے معاشرہ میں عورت مرد سے پہلے کیوں بوڑھی ہو جاتی ہے؟ 
کیوں شادی ہوتے چند سال میں بیٹی اپنی ماں کی بہن دکھنے لگتی ہے؟
خوبصورت سے خوبصورت عورت کا جسم وقت سے پہلے بے ڈھنگا اور بدنما ہوتا چلا جاتا ہے. مرد شادی کے چند سال بعد اپنی ہی بیوی کا چھوٹا بھائی دکھائی دیتا ہے.
اس صورتحال کا ذمہ دار کون ہے ہمارا معاشرہ، مرد یا عورت کی جسمانی ساخت؟
عورت جسمانی طور پر شاید مرد کے مقابلہ میں کمزور ہو لیکن فطرت نے اس کی جسم میں وہ تمام صلاحتیں رکھی ہیں جن کی بدولت وہ نہ صرف افزائش نسل کا فریضہ سر انجام دے سکے بلکہ اپنی ساخت کو ایسے برقرار رکھ سکے جو مرد کے لیے کشش اور مسرت کی وجہ ہو.
لیکن ایسا کیوں ہے کہ ہمارے معاشرہ میں معاملہ اس کے برعکس ہے.
.
ہم سب کی خواہش ہوتی ہے کہ لڑکی کی شادی کے فرض سے جلد از جلد سبکدوش ہوا جائے اس لیے دوسرے یا تیسرے رشتہ کو ہاں کی سند مل جاتی ہے. پھر عمومًا یہ دعا بھی رخصتی کے وقت دل کی گہرائیوں سے دی جاتی ہے کہ اس گھر سے اب تمہارا جنازہ ہی اٹھے. شادی کے بعد عورت کو اولین فریضہ افزائش نسل سمجھتا جاتا ہے جس کے ساتھ اضافی ذمہ داریوں میں شوہر کی خدمت، سسرالیوں کی نازبرداریاں، اولاد کی تربیت، اور گھر کی مکمل ذمہ داری بھی شامل ہوتی ہے.
سات سالوں میں چھے بچوں کی پیدائش اور بقیه ذمہ داریوں کو بجا لاتے عورت کی عمر وقت کی رفتار کو پیچھے چھوڑتے ہوئے کئی منازل طے کر جاتی ہے. اب تیس سال کی لڑکی اپنی پچپن سالہ ماں کی بہن دکھائی دیتی ہے.
کیا اس صورت میں مرد عورت کو قابل التفات سمجھے گا جس مرد کی فطرت میں خوبصورتی کی طرف جھکاؤ کا مادہ شامل ہے.
اب یہ عورت مرد کے لیے ایک زمہ داری ہے اس کی ضرورت نہیں. وہ اس کے ساتھ گھومنا پسند نہیں کرے گا. ہنسی مذاق کا ذوق ختم، تفریح کے مواقع عید کے چاند کی طرح ہو جاتے ہیں.
عورت جسمانی طور پر تو بوڑھی ہو جاتی ہے لیکن کیا اس کا دل اس کی روح بھی بوڑھی ہوتی ہے. کیا اس کی دل میں وہ سب خواہشات اور امنگیں کروٹیں نہیں بدلتی جو جوان سال مردوں کے دلوں میں ہوتی ہیں.
ہمارے سماج کے لامتناہی المیوں میں سے ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں عورتوں کے مسائل کو طہارت، پاکیزگی، مباشرت، مخصوص ایام اور بچوں کی پیدائش تک محدود سمجھا جاتا ہے. اور ہمارے تمام تر " تحقیق " انھی مسائل کے متعلق ہوتی ہے.
عورت کے جذبات، خواہشات ، نفسیات اور ضروریات کو مسائل کی سند حاصل نہیں.
ہمیں سوچنا چاہیے کہ کیا وجہ ہے کہ گھر میں بیس سال تک بابا کی لاڈلی کہلائے جانے والی لڑکی شادی کے پانچ سالوں میں بابا کی لاڈلی کے منسب سے اتر کر خاندان چلانے والی بوڑھی کے درجہ پر فائز ہو جاتی ہے.
ہمارے معاشرہ میں عورت مرد سے آزادی نہیں چاہتی.
یہ مرد کے ساتھ جینا چاہتی ہے. اس کے شانہ بشانہ زندگی کے سب رنگ دیکھنا چاہتی ہے
پس مردوں پر لازم ہے کہ وہ تمام( جائز) خواہشات جو وہ اپنے لیے رکھتے ہیں ان میں خواتین کو بھی شامل کریں. صرف اچھا کما لینا ہی ذمہ داری نہیں اچھی اور پرمسرت زندگی کے لیے ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے۔

Beti Episode No.1 | Urdu Kahani

1 قسط "  بیٹی " انتباہ !۔ اس ناول کے تمام کردار فرضی ہیں اور ان کے نام بھی فرضی ہیں ان کا نہ تو مصنف کی زندگی سے کوئی تعلق ہے اور ...